برای شرکت  سی سی کا و مشاوره رایگان و تعمیر دستگاه تصفیه آب با آبگونه با شماره ۹۱۰۱۵۳۰۰ تماس بگیرید.

،تصویر کا ذریعہGetty Images
او آئی سی مسلم ممالک کی تعاون تنظیم ہے لیکن اس پر سعودی عرب کی اجارہ داری سمجھی جاتی ہے (فائل فوٹو)
اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ نے انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جموں کشمیر کے عوام کے خلاف سکیورٹی آپریشن کو فوری طور پر بند کرے، وہاں بسنے والوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے، متنازعہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے سے باز رہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تحت تنازع کو پُرامن انداز میں حل کرے۔
او آئی سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق رابطہ گروپ کا ہنگامی ورچوئل اجلاس آج (پیر) کو منعقعد ہوا جس میں سعودی عرب، پاکستان، ترکی، نائجر اور اذربائیجان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔
میٹنگ کی صدارت او آئی سی کے سیکریڑی جنرل ڈاکٹر یوسف ال اوتھیمین نے کی۔
اعلامیے کے مطابق اس موقع پر سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ’میں عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کی عوام کو گذشتہ کئی دہائیوں سے نہ دیے جانے والے ان کے حقوق کے حصول کے لیے اپنی کوششوں کو مزید منظم کریں۔‘
رابطہ گروپ نے کشمیر میں بسنے والوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کی ہے کہ وہ انڈیا کو پابند کریں کہ وہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی پابندی کرے اور اس مسئلے کا بات چیت کے ذریعے پرامن انداز میں حل نکالے۔
یہ بھی پڑھیے
کشمیر میں ترک، ایرانی اور سعودی چینلز پر پابندی
’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا
قسطیں
مواد پر جائیں
کیا مسلم ممالک ایران کے لیے متحد ہو پائيں گے؟
سعودی عرب کی کشمیر پر ہچکچاہٹ سے پاکستان مایوس؟
عمران خان کو کوالالمپور اجلاس میں عدم شرکت پر افسوس
دوسری طرف رابطہ گروپ نے او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ کی جانب سے اپنے خصوصی مندوب کے ذریعہ جموں کشمیر کے مارچ 2020 میں خطے کا دورہ کرنے کے ذریعے کی جانے والی کوششوں کی بے حد تعریف کی۔
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق رابطہ گروپ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال مزید گھمبیر ہو چکی ہے، انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ منظم انداز سے آج بھی جاری ہے جبکہ خطہ کے امن و سلامتی کے لیے لاحق خطرات میں اضافہ ہو چکا ہے۔
انھوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ انڈیا سے مطالبہ کرے کہ وہ پانچ اگست 2019 کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کو کالعدم کرے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیر کے عوام کو استصواب رائے کا حق دے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو فوری روکے۔
یہ اجلاس پاکستان کی درخواست پر منعقد کیا گیا تھا۔
اس اجلاس میں انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ او آئی سی کا یہ رابطہ گروپ جموں و کشمیر کے لیے سنہ 1994 میں تشکیل دیا گیا تھا۔
او آئی سی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثیمین نے کہا ’یہ اجلاس جموں و کشمیر رابطہ گروپ کی میٹنگوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس میں جموں و کشمیر سے متعلق بہت سے امور پر تبادلہ خیال ہو گا۔‘
گذشتہ سال جب انڈیا نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی تو پاکستان نے او آئی سی پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ انڈیا کے خلاف سخت بیان جاری کرے۔ تاہم ایسا نہیں ہوا اور او آئی سی تقریباً غیر جانبدار رہا۔
در اصل او آئی سی ایک ایسی تنظیم سمجھی جاتی ہے جس پر سعودی عرب کا غلبہ ہے۔ سعودی عرب کی حمایت کے بغیر او آئی سی میں کچھ کرنا ناممکن سمجھا جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر اعظم اور سعودی عرب کے شہزادہ ولی عہد
انڈیا اور سعودی عرب کے وسیع تر مشترکہ مفادات ہیں اور سعودی عرب کشمیر کے بارے میں انڈیا کے خلاف بولنے سے گریز کرتا رہا ہے۔ انڈیا کی جانب سے کشمیر کو دی جانے والی خصوصی چیثیت کے خاتمے پر بعد بھی سعودی عرب نے انڈیا کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔
ایک اہم خلیجی ملک متحدہ عرب امارات نے تو یہاں تک کہا کہ یہ انڈیا کا داخلی مسئلہ ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اس موقف کو پاکستان کے لیے جھٹکے اور انڈیا کی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔
لیکن ایک بار پھر او آئی سی کی جانب سے اس قسم کی میٹنگ کے انعقاد کو پاکستان اپنی کامیابی سے منسلک کرے گا۔ اس سے قبل اس طرح کی میٹنگ گذشتہ سال ستمبر میں ہوئی تھی۔
کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کی غیرجانبداری کے حوالے سے پاکستان نے ترکی، ملائشیا، ایران کے ساتھ گروپ بندی کی کوشش کی تھی۔ اس کے لیے ترک صدر رجب طیب اردوغان، ایران کے صدر حسن روحانی، ملائشیا کے اس وقت کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستانی وزیر اعظم نے عین وقت پر اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا
لیکن سعودی عرب نے اسے او آئی سی کو چیلنج کیے جانے کے طور پر دیکھا تھا۔
بہرحال ترکی اور ملائیشیا کو کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ کھڑے دیکھا گیا ہے جبکہ باقی اسلامی ممالک عام طور پر غیر جانبدار رہے۔ حالیہ دنوں میں او آئی سی کے رکن مالدیپ نے انڈیا کی حمایت کی ہے۔
او آئی سی کا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد کیا جارہا ہے جب انڈیا اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کے مابین کشیدگی جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقے لداخ میں ہونے والی جھڑپ میں انڈیا کے 20 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
دوسری جانب انڈیا کے لیے نیپال کی سرحد پر بھی نیا تنازع پیدا ہو گیا ہے اور پاکستان کے ساتھ تو پہلے سے ہی انڈیا کا رشتہ کشیدہ ہے۔ ایسی صورتحال میں او آئی سی کا اجلاس بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
جموں و کشمیر پر او آئی سی کے اس رابطہ گروپ میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔
،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان سفارتی بات چیت
ایران، ملائیشیا اور ترکی طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ او آئی سی اسلامی ممالک کی ضروریات اور عزائم کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایران، ترکی اور ملا‏ئیشیا ایک ایسی تنظیم تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو سعودی تسلط سے آزاد ہو۔
اس کے پیش نظر ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں ایک سربراہی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن پاکستان نے اس میں شرکت نہیں کی تھی۔
خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں کوالالمپور میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں پاکستان کی عدم شرکت کو سعودی عرب کے دباؤ کے تناظر میں دیکھا گیا تھا۔
پاکستان اور سعودی عرب نے اس وقت ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے اس دعوے پر مبنی خبروں کی تردید کی تھی کہ پاکستان نے کوالالمپور سمٹ میں شرکت سعودی عرب کے مبینہ دباؤ پر نہیں کی تھی۔
اس سلسلے میں پاکستان کے اندر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اسلامی ممالک ہیں لیکن وہ مسئلہ کشمیر پر انڈیا کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان سے زیادہ انڈیا میں مسلمانوں کی آبادی ہے۔ جموں و کشمیر پر او آئی سی کے اس رابطہ گروپ میں ترکی اور پاکستان بھی شامل ہیں جو انڈیا کے خلاف بات کر سکتے ہیں۔
اگر اس میٹنگ میں کوئی تجویز منظور کی جاتی ہے تو بھی انڈیا کو سعودی عرب سے توقع ہوگی کہ وہ اس تجویز کی زبان میں کس حد تک توازن قائم کرا سکتا ہے۔
© 2022 بی بی سی.

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں بیرونی لنکس کے بارے میں ہماری پالیسی.

آب هدیه خالق یکتا به انسان ، از نعمتهای بزرگ الهی ، سرچشمه حیات ، باعث طراوت و شادابی ، عامل پاکی و سرآغاز زندگی تمام موجودات روی کره زمین است .

اهمیت آب سالم در زندگی بشر به اندازه ای بزرگ است که توضیح آن در چند سطر یا چند صفحه میسر نیست .
شرکت آبگونه پالایش گستر نوین بزرگترین وارد کننده و تامین کننده دستگاه های تصفیه آب خانگی ، نیمه صنعتی و پیش تصفیه در کشور با تکیه بر تجربه کاری چند سال گذشته و با هدف تامین سلامت جامعه که در سالهای اخیر با شیوع ویروس منحوس کرونا به مخاطره افتاده و پیشگیری از ابتلا به بیماریهای عفونی ، کلیوی و دستگاه گوارش با همکاری پرسنل مجرب و کارآزموده و همگام با آخرین تکنولوژیهای روز دنیا در صنعت تصفیه ، با گردآوری مجموعه ای کامل و بی نقص از دستگاه های تولیدی توسط بهترین و معتبر ترین برندها در صنعت تصفیه آب گام بزرگی در راستای سلامت خانواده و جلب رضایت حداکثری شما هم میهنان عزیز برداشته است .

محموعه آبگونه امیدوار است با گسترش روز افزون فرهنگ بهداشت در جامعه و درک بیشتر موضوع اهمیت استفاده از آب شرب سالم در زندگی توسط خانواده های ایرانی شاهد بهبود و ریشه کن شدن بیماریهای عفونی و گوارشی ناشی از مصرف آبهای آلوده باشیم .

در این راستا شرکت آبگونه خود را موظف به ارائه مشاوره صحیح و اصولی به خریداران گرامی و همراهی قدم به قدم جهت انتخاب بهترین ها توسط شما عزیزان نموده و ضمن ارسال و نصب رایگان کلیه محصولات خریداری شده توسط سفارش دهندگان محترم در شهر تهران و ارسال محصولات از طریق موسسات معتبر حمل و نقل مخصوص سفارش دهندگان محترم در کلیه شهرستانها در سراسر ایران ، با ارائه ضمانت نامه های استثنائی دو ساله در سطوح برنزی ، طلائی و الماس همراه با خدمات پس از فروش مادام العمر، اصالت و کیفیت دستگاه ها و خدمات مطلوب خریداران گرامی را تضمین مینماید .

جهت اطلاع از پیشنهادات شگفت انگیز در جشنواره زمستانه ، ثبت سفارش و خرید دستگاه های تصفیه آب به صفحه اصلی آبگونه مراجعه فرمایید .

جهت شرکت سی سی کا تماس با کارشناسان فروش و اخذ مشاوره رایگان به صفحه تماس با ما مراجعه فرمایید .